از قلم: مولانا سید رضی حیدر پھندیڑوی مقیم دہلی
حوزہ نیوز ایجنسی | مولانا محمد سیادت نقوی کے انتقال کی خبر نے اہلِ علم، طلبہ، وابستگانِ دارالعلوم اور اردو و دینی ادب سے محبت رکھنے والوں کو سوگوار کر دیا ہے۔ ان کی وفات ایک ایسی علمی شخصیت کی جدائی ہے جس نے اپنی زندگی تعلیم، تدریس، تحقیق، تصنیف اور دینی خدمات کے لیے وقف کر دی تھی۔
مولانا محمد سیادت نقوی ۶/ نومبر ۱۹۴۲ء کو محلہ شفاعت پوتہ، امروہہ میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم کے بعد انہوں نے دینی علوم کی طرف توجہ کی اور دارالعلوم سید المدارس سے عالم، فاضل کے امتحانات پاس کیے۔ اس کے ساتھ انہوں نے عصری علوم سے بھی استفادہ کیا اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے ایم اے اردو اور روہیلکھنڈ یونیورسٹی سے " علی نظر حیات و شاعری" کے موضوع پر پی ایچ ڈی کی ۔
علم کے مختلف میدانوں سے وابستگی نے ان کی شخصیت کو ایک وسیع فکری دائرہ عطا کیا۔ وہ محض ایک عالمِ دین نہیں تھے، بلکہ اردو زبان و ادب، فلسفہ، اسلامی فکر اور سماجی مسائل پر گہری نظر رکھنے والے استاد اور صاحبِ قلم بھی تھے۔
۱۹۶۴ء میں انہیں امام المدارس کے کالج میں استاد مقرر کیا گیا، جبکہ ۱۹۷۳ء میں وہ جگدیش سرن ہندو ڈگری کالج میں اردو کے پروفیسر منتخب ہوئے۔ بعد ازاں انہوں نے ۱۹۸۷ء سے ۲۰۰۳ء تک صدر شعبۂ اردو کی حیثیت سے بھی علمی و تدریسی خدمات انجام دیں۔ ۱۹۸۹ء میں اشرف المساجد کے امام جمعہ منتخب ہوئے ، ان کی علمی اور انتظامی صلاحیتوں کا اعتراف اس وقت بھی ہوا جب وہ دارالعلوم سید المدارس کے متولی منتخب ہوئے۔
مولانا محمد سیادت نقوی کی علمی شخصیت کا ایک اہم پہلو ان کی تصنیفی خدمات تھیں۔ انہوں نے مختلف موضوعات پر متعدد کتابیں لکھیں، جن میں اسلامی نظریۂ عدالت، نہج البلاغہ کی روشنی میں، نسیم امروہوی: ایک تعارف، گفتۂ غالب، اسلام، اشتراکیت اور سرمایہ داری، نظامِ ملکیت کا تصور، اسالیبِ دعا: آیاتِ قرآنی کے تناظر میں اور فرہنگِ مراثیِ دبیر قابلِ ذکر ہیں۔
ان تصانیف کا جائزہ لیا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ ان کی علمی دلچسپی کسی ایک شعبے تک محدود نہیں تھی۔ اسلامی فکر سے فلسفے تک، قرآن سے نہج البلاغہ تک، اور اردو ادب سے مرثیہ نگاری تک ان کا قلم مختلف علمی اور فکری موضوعات پر رواں رہا۔ یہی وسعتِ مطالعہ ان کی شخصیت کو منفرد بناتی تھی۔
ان کی زندگی کا ایک بڑا سرمایہ ان کےشاگرد اور علمی وابستگان بھی ہیں۔ ایک استاد کی اصل میراث اس کی کتابوں کے ساتھ وہ ذہن بھی ہوتے ہیں جنہیں وہ علم کی روشنی عطا کرتا ہے۔ مولانا محمد سیادت نقوی نے بھی اپنی طویل علمی زندگی میں متعدد طلبہ کی تعلیم و تربیت کی اور علم کی اس روایت کو آگے بڑھایا۔
آج مولانا محمد سیادت نقوی ہمارے درمیان موجود نہیں، لیکن ایک عالم کی زندگی صرف اس کے جسمانی وجود تک محدود نہیں ہوتی۔ اس کے افکار، کتابیں، شاگرد اور علمی خدمات اس کے بعد بھی زندہ رہتے ہیں۔ مولانا کی تصانیف اور ان کی علمی خدمات آنے والی نسلوں کے لیے ان کی یاد اور علمی میراث کا ذریعہ رہیں گی۔ان کی رحلت اہلِ علم کے لیے ایک نقصان، ان کے شاگردوں کے لیے ایک خلا اور ان کے اہلِ خانہ کے لیے ایک گہرا صدمہ ہے۔
ہم اس غم کی گھڑی میں ان کے فرزندان مولانا سید احسن اختر سروش، سید حسین اور تمام اہلِ خانہ، عزیزوں، شاگردوں، رفقائے علمی اور وابستگان سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہیں۔ اللہ مرحوم کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند کرے، ان کی علمی و دینی خدمات کو شرفِ قبول عطا فرمائے اور پسماندگان کو صبر و اجر عطا کرے۔
إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ
مولانا محمد سیادت نقوی کی علمی خدمات اور ان کی تحریری میراث انہیں اہلِ علم کی یادوں میں ہمیشہ زندہ رکھے گی۔









آپ کا تبصرہ